پٹنہ :25/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)عام انتخابات سے ٹھیک پہلے جہاں اپوزیشن مودی حکومت پر حملہ آور ہے، وہیں بی جے پی کے رشتے بھی گزشتہ کچھ مہینوں سے اتحادیوں کے ساتھ گڑبڑچل رہے ہیں۔ ایک طرف جہاں 2014 میں بی جے پی کی اتحادی رہی ٹی ڈی پی حکومت سے علیحدہ ہو چکی ہے تووہیں شیوسینا کا باغیانہ تیور بھی واضح ہے۔ ایسے میں اب سب کی نظر باقی اتحادیوں کے رخ پر ہے۔ اسی سیاسی حالات کے درمیان لوک جن شکتی پارٹی لیڈر چراغ پاسوان سے خصوصی بات کی۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ بات ناراضگی کی نہیں ہے ، بات دلتوں کے حقوق کی ہے اب جس طرح کا ماحول ہے اور پیغام جا رہا ہے، وہ قطعی اچھا نہیں ہے۔ حکومت کو اس تاثر کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ ہمارے مطالبات کو فوری طور پر سننے ہوں گے۔ پورے ملک میں دلتوں کے درمیان اشتعال اور غصہ ہے۔ ہم نے اپنے مطالبات اور خدشات کے بارے میں مودی کو خط لکھ کر بتا بھی دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہماری بنیادی طور پر دو مطالبات ہیں۔پہلا یہ کہ ایس سی،ایس ٹی معاملے پر حکومت اب بغیر وقت گنوائے آرڈیننس لائے اور اس بارے میں سپریم کورٹ میں فیصلہ دینے والے جج جسٹس گوئل کی فوری طور پر این جی ٹی چیئرمین کے طور پر تقرری کو برخاست کرے۔ ہمیں یہ کہنے میں بالکل تردد نہیں ہے کہ ان کی تقرری دلتوں کے زخم پر نمک چھڑکنے جیسا ہے۔ اس سے دلتوں کے درمیان انتہائی غلط تاثر پہنچا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ ملک بھر کے دلت سڑک پر اتر جائیں گے، تب حکومت کے لئے جواب دینا مشکل ہو جائے گا۔ ہم ان کے مطالبات کے ساتھ ہوں گے۔ اسی لیے ہم نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ یا تو پارلیمنٹ کے سیشن میں فوری طور پر بل کو پاس کروائیں اور جسٹس گوئل کو برخاست کریں۔ اگر اتنے کم وقت میں بل کا مسودہ تیار نہیں ہوتا ہے تو سیشن کو 7 اگست تک ختم کر کے اور 8 اگست کو آرڈیننس لے آئیں تاکہ 9 اگست کے دلت تحریک کو ٹالا جاسکے ۔جب چراغ پاسوان سے سوال کیا گیا کہ گزشتہ دلت تحریک میں تو مودی حکومت نے تشدد کے لئے اپوزیشن کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اسے سازش بتایا تھا ، تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کی غلط فہمی ہے۔ ایسا کہنے والے بھرم میں جی رہے ہیں۔ 2 اپریل کو بھی دلت قدرتی طور پر سڑک پر آئے تھے ، اسے مسترد کرنا صحیح نہیں ہے۔ حکومت کو سمجھنا چاہئے کہ ہم نے ان چار سالوں میں دلتوں کے لئے بہت کچھ کیا۔ شاید وی پی سنگھ حکومت کے بعد سب سے زیادہ دلتوں کے لئے کام کیا لیکن چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی وجہ سے دلت مخالف تاثرقائم ہوجاتا ہے